تریپورہ کے وزیراعلیٰ کی اپیل،نوٹ بندی پرخالی ہاتھ رہنے پربھی نشانہ لگایا،کسانوں اورروزگارمسائل پربھی گھیرا
رانچی،8؍اپریل(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)تریپورہ کے وزیراعلیٰ مانک سرکارنے کہاہے کہ بی جے پی کی حکومت قبائلیوں کی زمین چھین کر سرمایہ داروں کو دینے جا رہی ہے۔زمین پرحق کے عوام کی مانگ کی ہم حمایت کرتے ہیں۔سرکارہفتہ کورانچی کے ارگوڑا میدان میں سی پی ایم کے جھارکھنڈ بچاؤ مہم کے تحت جلسے سے خطاب کر رہے تھے۔انہوں نے کہاکہ تریپورہ، راجستھان، مدھیہ پردیش، تیلاگانا میں کانگریس نے سپریم اور قبائل کے حقوق چھیننے کی کوشش کی۔لیکن تریپورہ میں سی پی ایم کی حکومت بننے کے بعد قبائل کو جنگل کا حق دیاگیا۔قبائلیوں اور غریب کسانوں کی زمین لینے کے بعد انہیں لوٹایا گیا۔آبادی کی بنیاد پر نوکری میں ریزرویشن کا بندوبست کیاگیا۔تریپورہ میں زمین کو نشان زد کرکے تصویر کھینچ متعلقین کو جنگلات سے متعلق پٹا دیاگیا۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی جھارکھنڈ میں 17سال میں یہ کام نہیں کر پائی۔انہوں نے کہاکہ تریپورہ میں ہم نے قبائلیوں-قبائل کو ریزرویشن دیا۔اس سے ہماری یہاں سے آئی اے ایس اور آئی پی ایس افسر نکل رہے ہے۔انہوں نے کہا کہ جھارکھنڈ میں بھی آج وہی صورت حال ہے، جیسی کانگریس کے وقت میں تریپورہ میں تھی۔عوامی تحریک کو تیزکرناپڑے گا۔محب وطن تنظیموں کو مرکز کی مودی حکومت اور جھارکھنڈ کی رگھوور حکومت کی عوام مخالف پالیسیوں کے خلاف متحرک ہوکر تحریک کوتیزکرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ غلط پالیسیوں کی وجہ سے 70سال تک راج کرنے کے باوجود گزشتہ انتخابات میں کانگریس بری طرح ہاری۔بی جے پی کالے دھن واپس لانے، روپے کی قیمت مستحکم کرنے، بے روزگاری ختم کرنے اور مہنگائی کم کرنے جیسے جھوٹے وعدے کرکے مرکزکی اقتدار میں آئی۔لیکن ایک بھی وعدے پورے نہیں ہوئے۔کسانوں نے سب سے زیادہ خودکشی بی جے پی کے دورِاقتدارمیں کی۔تین سال میں صرف چارلاکھ لوگوں کو ہی حکومت روزگار دے پائی۔کالا دھن بھی واپس نہیں آیا۔انہوں نے کہاکہ 500-1000نوٹ بھی بندکئے گئے۔لیکن اس سے کوئی بہتر نہیں ہوا۔نہ ہی کالا دھن نکلا،12لاکھ کروڑ کا قرض بڑے لوگوں کو دیا گیا۔غریبوں کا لون بڑھایاجاتاہے۔انہوں نے کہا کہ یہ حکومت بروکرز، ڈاکوؤں کونوازنے والی ہے۔